ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سوشل میڈیا کے لیے نئے ضابطے مودی حکومت کی تاناشاہی: کانگریس

سوشل میڈیا کے لیے نئے ضابطے مودی حکومت کی تاناشاہی: کانگریس

Thu, 27 May 2021 12:18:10    S.O. News Service

نئی دہلی،27؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس نے سوشل میڈیا کے لیے نئے ضابطوں کو مودی حکومت کی تاناشاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک اس پلیٹ فارم کا استعمال اظہار خیال کی آزادی کے طور پر ہوتا آیا ہے لیکن نئے ضابطے نافذ کرکے حکومت اس پر قدغن لگا رہی ہے، کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر مودی حکومت جن نئے ضابطوں کو نافذ کر رہی ہے، وہ بے درد، بے رحم، بے ایمانی اور تاناشاہی کی مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر شمالی کوریا کا تاناشاہ بھی اتنی بے رحمی سے ضابطے نافذ نہیں کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بے رحمی سے مودی حکومت یہ ضابطے لا رہی ہے، وہ شمالی کوریا کے تاناشاہ کے لیے بھی باعث تحریک ہو سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قدغن کے جو ضابطے حکومت آج یا کل سے نافذ کرنے جا رہی ہے، وہ 25 فروری کو شائع ہوئے تھے اور اب تین ماہ پورے ہونے کے بعد انھیں نافذ کیا جانا ہے۔ ان ضابطوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے 2020-21 کا ضابطہ کہا جاتا ہے۔ ان ضابطوں میں جو انتظام کیا گیا ہے، وہی شمالی کوریا کے حکمراں کا سوشل میڈیا اور پریس کے تئیں ہوتا ہے۔

سنگھوی نے کہا کہ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضابطے میں سب سے خراب یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایکٹ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون اسے سنگین صورتحال مانتے ہیں کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے لیکن یہاں حکومت نے تاناشاہی رویہ اختیار کرکے من مانی کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بولنے کی آزادی انسانی ثقافت کی آکسیجن ہے اور یہ صورتحال جمہوریت کے شعبے میں بھی آکسیجن کی کمی پیدا کرتی ہے۔ حکومت نے آج بہت ہی سنگین حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری تہذیب میں تبادلہ خیال سے منسلک ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچا جانا چاہیے۔

سنگھوی نے کہا کہ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضابطے میں سب سے خراب یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایکٹ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون اسے سنگین صورتحال مانتے ہیں کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے لیکن یہاں حکومت نے تاناشاہی رویہ اختیار کرکے من مانی کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بولنے کی آزادی انسانی ثقافت کی آکسیجن ہے اور یہ صورتحال جمہوریت کے شعبے میں بھی آکسیجن کی کمی پیدا کرتی ہے۔ حکومت نے آج بہت ہی سنگین حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری تہذیب میں تبادلہ خیال سے منسلک ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچا جانا چاہیے۔


Share: